بنگلورو27/اپریل (ایس اونیوز) ریاستی اقلیتی کمیشن(کے ایم ڈی سی) کی طرف سے تعلیمی قرضہ جاری نہ ہونے سے میڈیکل، انجینئرنگ، ڈینٹل سائنس جیسے پیشہ ورانہ کورسس میں زیرتعلیم طلبہ کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
پیشہ ورانہ کورسس کے لئے طلبہ کی کاؤنسلنگ شروع ہوچکی ہے، لیکن اقلیتی کمیشن کی طرف سے مسلم، عیسائی، جین، بدھسٹ، سکھ اور پارسی طبقات سے متعلق طلبہ کے لئے جو تعلیمی قرضے کی رقم سی ای ٹی سیل کو منتقل ہونی چاہیے تھی وہ ابھی تک ادا نہیں کی گئی ہے۔جن والدین کی سالانہ آمدنی 6لاکھ روپے سے کم ہو، ایسے اقلیتی طلبہ کو پیشہ ورانہ تعلیم جاری رکھنے کے لئے کے ایم ڈی سی کی طرف سے تعلیمی قرضہ اسکیم کے تحت بغیر سود کا قرض دیا جاتا ہے۔عام طور پر کاؤنسلنگ شروع ہونے سے قبل ہی اقلیتی کمیشن کی طرف سے سی ای ٹی سیل کو 10کروڑ روپے کا فنڈ جاری کردیا جاتا ہے۔جس کی وجہ سے اقلیتی طلبہ اپنی پیشہ ورانہ تعلیم بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔لیکن امسال یہ رقم ابھی تک جاری نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ کے مشکلات کھڑی ہوگئی ہیں۔
کرناٹکا اقلیتی ترقیاتی کمیشن (کے ایم ڈی سی)کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ سال 2019-20کے لئے سی ای ٹی سیل کو تعلیمی قرضے کی جو رقم اداکرنی تھی، وہ پارلیمانی انتخابات کے پس منظر میں لاگو ہونے والے ضابطہ اخلاق کی وجہ سے ممکن نہیں ہوسکی۔ فی الحال سی ای ٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹرکے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے مسئلے کی نوعیت سمجھادی گئی ہے۔ بہت جلد کے ایم ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر ان سے ملاقات کرکے اس مسئلے کو حل کردیں گے۔
لیکن ایک اور اعلیٰ سرکاری افسر کے مطابق اصل بات یہ ہے کہ کے ایم ڈی سی کی طرف سے جو موقف اختیار کیا گیا ہے وہ درست نہیں ہے اور غلط بیانی پر مبنی ہے۔ کیونکہ سی ای ٹی کے ذریعے منتخب کیے جانے والے طلبہ کو ’آریو سی ای ٹی‘ اسکیم پہلے سے جاری ہے۔ اس پر انتخابی ضابطہ اخلاق کی پابندی لاگو نہیں ہوتی۔ انتخابی ضابطے کااطلاق تو کسی نئی اسکیم کے جاری کرنے پر ہوتا ہے۔لہٰذا موجودہ جو صورتحال ہے اس کے لئے اقلیتی کمیشن کے افسران کی عدم دلچسپی اور کوتاہی ذمہ دار ہے۔اور اس کے وجہ سے ہزاروں طلبہ کو دشواریوں سے گزرنا پڑرہا ہے۔